Life StyleSocialStory

ایک لڑکی اپنے عزت بچاتے ہوئے اپنے چار سالہ بیٹے کے سامنے قتل ہوگئی

ایک لڑکی اپنے عزت بچاتے ہوئے اپنے چار سالہ بیٹے کے سامنے قتل ہوگئی، ہم اپنی پوری کوششوں کے باوجود اُس کو انصاف نہ دلاسکے۔

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

قتل کے ہر کیس کا موقعہ Dsp اور Ssp نے لازمی دیکھنا ہوتا ہے۔

مجھے انسپیکٹر نے فون کیا کہ” سر گُلستان جوہر میں ایک خاتون کا قتل ہوگیا ہے آپ آکر موقعہ دیکھ لیں”
میں کچھ دیر میں علائقہ Dsp مسٹر ڈاکٹر نجیب کے ساتھ موقعہ پر موجود تھا۔
واقعہ یہ تھا کہ خاتون خانہ کا شوہر صبح کو جیسے ہی اپنی جاب پر جانے کیلئے فلیٹ سے نکلا تھوڑی دیر میں خاتون کے شوہر کے ایک رشتیدار نے بیل بجائی اور گھر میں آگیا اُس وقت خاتون خانہ اپنے 4 سالہ بیٹے کو اسکول بھیجنے کیلئے تیار کررہی تھی نوجوان نے آتے ہی خاتون سے دست درازی کرنے لگا خاتوں لڑنے مرنے پر اُتر آئی، لڑکا اس صورت حال کیلئے تیار نہیں تھا جب لڑکے نے دیکھا کہ بات بگڑ رہی ہے تو جلدی سے کچن میں گیا اور سبزی کاٹنے والی چُھری سے خاتون پر حملہ کردیا اور چُھریوں کے وار کر کے اُسے بُری طرح زخمی کردیا اتنے میں باہر کام کرنے والی نوکرانی نے بیل بجائی تو لڑکا بوکھلا گیا اور جلدی میں باہر کا دروازہ کھولا اور نکل بھاگا، دروازے کے ساتھ خاتوں کا 4 سالہ بیٹا کھڑا تھا جو دروازہ اچانک کُھلنے کی وجہ سے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگیا تھا اور بچہ اسُ آفت ناگہانی کو دیکھ رہا تھا۔ ( یہ تو بچے کی زندگی تھی کہ عین وقت پر نوکرانی آ گئی ورنہ ایسے موقعہ پر ملزمان پھچانے جانے کے ڈر سے پورے کے پورے خاندان کو قتل کر دیتے ہیں)

•نوکرانی نے اندر داخل ہو کر دیکھا کہ خاتون اور بچہ دونوں زخمی ہیں، نوکرانی نے باہر نکل کر شور کیا ساتھ کے فلیٹوں سے لوگ نکل آئے اور چوکیدار بھی گیٹ چھوڑ کر اوپر آگیا نوکرانی چیختی چلاتی رہی مگر کوئی اپنی کار نکالنے کیلئے تیار نہ ہوا کیوں کہ ایسے موقعہ پر ہم لوگ اپنی “قیمتی” کار کے سیٹ کور خون آلود نہیں کرنا چاہتے مجبورن چوکیدار نیچے گیا اور منت سماجت کرکے ایک رحم دل ٹیکسی والے کو راضی کیا ( ورنہ گاڑی خون سے خراب ہونے کے ڈر سے ٹیکسی والے بھی انکار کرتے ہیں) اور لوگوں کی مدد سے خاتوں اور بچےکو ٹیکسی میں منتقل کیا نوکرانی دونوں زخمیوں کو لے کر سول اسپتال چلی گئی خاتوں زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی فوت ہوگئی۔

•موقعہ واردات دیکھتے وقت میں ایک بات سے الجھن کا شکار ہو رہا تھا کہ باتھ روم کے فرش پر خون کے قطروں کے نشانات تھے نوکرانی کا کہنا تھا کہ فلیٹ کا دروازہ جیسے ہی کُلا ملزم لڑکا اُسے ( نوکرانی) کو دھکا دیکر سیڑیوں کی طرف بھاگا، نوکرانی نے اندر داخل ہوکر دیکھا کہ خاتون خانہ بیڈ کے ایک سائیڈ پر خون میں لت پُت پڑی مدد کیلئے چیخ رہی تھی، میں نے اُس سے پوچھا کہ باتھ روم کے فرش پر کس کا خون ہے تو اُس نے بتایا کہ خاتون تو چلنے پہرنے کی قابل نہیں تھی اور وسوق سے کہا کہ خاتون تقریباً بیہوشی کی حالت میں تھی۔

۰•خاتون کا شوہر ،دوسرے رشتیدار اور پولیس بھی ہسپتال پہنچ گئی وہاں بچے نے سب کو بتایا کہ یاسر انکل نے اُس کی ماں کو چُھری سے زخمی کیا ہے، Dsp ڈاکٹر نجیب اور انسپیکٹر فرید نے شام تک لڑکے کو گرفتار کر لیا،ملزم لڑکے کے دائیں ہاتھ پر تازہ پٹی کی ہوئی تھی زخم کے متعلق پہلے تو ادہر اُدہر کی باتیں کرنے لگا مگر تھوڑی سی چھترول کے بعد راستے پر آگیا اور بتایا کہ جیسا کہ چُھری کا سائز چھوٹا تھا اور خاتوں پر وار کرتے وقت خون کی وجہ چُھری کے ہتھیے سے اُس کا ہاتھ پھسلا اور اُس کی دو انگلیاں زخمی ہو گئیں اور مزید بتایا کہ دروازے پر گھنٹی بجتے ہی وہ جلدی میں باتھ روم میں گیا اور چُھری واش بیسن میں چھوڑی اور اپنے زخمی انگلیاں پانی سے دھوئیں اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا اور موٹر سائیکل پر قریبی ہسپتال گیا اور پٹی کرا لی-

‏•FIR درج ہوگئی، باتھ روم میں خون کے قطروں کا معمہ حل ہوچُکا تھا، پولیس ثبوتوں کے لیئے ہمیشہ ایک سیمپل لیتی ہے مگر میں نے اپنے آفسروں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ دو سیمپل لیا کریں لہاذہ باتھ روم سے دو خون آلود ٹائل نکال کر ایک ٹائل اور خاتون کے خود آلود کپڑے، چُھری اور دوسری ضروری چیزیں پولیس کے کیمیکل آگزامنر Chemical Examiner کو ارسال کردیں گئیں۔

•جیساکہ یہ ایک قتل کا عام کیس تھا ملزم گرفتار ہوچُکا تھا اور Dsp ڈاکٹر نجیب اور انسپیکٹر فرید دین جیسے اچھے افسر اس کیس کو دیکھ رہے تھے، ضروری کاروائی کے بعد کیس کا چالان شیشن کورٹ East میں کردیا گیا اور ضروری ثبوت اور گواہیاں ترتیب دے دی گئی تہیں اور ملزم کی بچت کے تقریباً سارے دروازے بند کر دیئے گئے تھے اس لیئے میں بے فکر ہوکر اپنے روز مرہ کے کام میں مصروف ہوگیا۔

•تقریباً ایک مہینے بعد انسپیکٹر فرید دین پسینے میں شرابور میرے پاس پریشان حالت میں آیا اور بتایا کہ “سر ظلم ہو گیا ہے حنا کا قتل کیس خراب ہوگیا ہے” میں چونک گیا فرید نے اپنے تھیلے سے ایک سیل شُدہ ٹائل نکالا اور مجھے دکھاتے ہو بتایا کہ “ سر ٹائل بدل دیا گیا ہے اور Chemical Examiner نے ارسال شُدہ سیمپل کی جگہ مارکیٹ سے نیا ٹائل لے کر سیل کرکے میرے حوالے کردیا ہے” بتایا کہ سر دوسرا اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ خاتون کے کپڑوں سے ملنے والا خون اور ٹائل سے ملنے والا خون خاتون کا ہے”

‏Chemical Examiner کی رپورٹ پڑھ کر میرا سر خود چکرا کر رہ گیا، کیون کہ Tecnical رپورٹ نے کیس کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا تھا۔

※ جیساکہ میں پہلے بتا چکا ہوں ہم ہر ثبوت کے دو سیمپل لیتے ہیں اس لیئے میں ہمت نہیں ہارا اور انسپیکٹر فرید کو کہا کہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں دوسرا ٹائل ہمارے پاس موجود ہے ہم DNA کرا لیتے ہیں مگر اس میں دقّت یہ تھی ملزم ہمارے پاس نہیں تھا اور عدالتی ریمانڈ پر جیل میں تھا اور عدالت کی اجازت کے بغیر اُس کا خون کا سیمپل لینا ممکن نہیں تھا۔ میں نے انسپکٹر فرید کو حُکم دے دیا کہ وہ مُلزم کے خون کا سیمپل لینے کیلئے سیشن جج صاحب کی عدالت میں درخواست دے دے۔

※ سیشن جج صاحب East کی عدالت میں درخواست داخل کر دی گئی اور میں ہر تاریخ پر انسپیکٹر فرید سے پوچھتا کہ کیا ہوا وہ جواب میں بولتا کہ سر ملزم کے 10 وکیل آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہماری درخواست کی مخالفت کرتے ہیں اور Date پڑ جاتی ہے، میں نے انسپیکٹر فرید کو کہا Next Date پر میں خود چلون گا اور عدالت کو مطمئیں کرنے کی کوشش کروں گا۔

‏※ Date پر اُس وقت کے سیشن جج صاحب جناب صادق حسین بھٹی صاحب کی روبرو میں پیش ہوا ملزم کے وکلا کا یہ دلیل تھا کہ جب Chemical Examiner کی رپورٹ آ چُکی ہے تو DNA کروانے کی کیا ضرورت ہے ؟
میں نے جج کو بتایا کہ Chemical Examiner کی رپورٹ کو Manage کیا گیا ہے، میں نے نیا سیل شدہ ٹائل جج صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے باتھ روم کے فرش سے سیمنٹ لگا ہوا خون آلود ٹائل Examination کیلئے بھیجھا مگر واپسی میں جعل سازی کرکے کیس کے شواہد گُُم کرنے کیلئے ٹائل بدل دیا گیا، ایک خاتون اپنی عزت بچاتے ہوئے اپنے پانچ سالہ بچے کے سامنے قتل ہوگئی، ہم اس کیس کو لاوارث Un attended نہیں چھوڑ سکتے، میں نے جج صاحب کو باتھ روم سے سیمنٹ لگا ہوا سیل شدہ دوسرا ٹائل اور ٹائل نکالنے کی تصاویر دکھائیں اور بتایا کہ ہم Chemical Examiner کی رپورٹ پر اس لیئے بھی اعتبار نہیں کر سکتے کہ اُس نے مارکیٹ سے نیا ٹائل لیکر سیل کرکے بھیج دیا ہے۔

※ملزم کے وکلا نے کافی شور شرابہ کیا مگر شیشن جج صاحب نے ہماری درخواست Allow کر دی اور جیل سپرینٹنڈنٹ کو حکم کیا کہ جیل کے ڈاکٹر سے ملزم کے خون کا سیمپل لیکر سیل کرکے انسپیکٹر فرید کے حوالے کیا جائے۔
انسپیکٹر فرید مجھے گاڑی تک چھوڑنے آیا میں نے اُس کو کہا کہ آپ نے یہاں سے کہیں جانا نہیں ہے جج صاحب کی کورٹ سے آرڈر لے کر آج ہی جیل سے ملزم کے خون کا سیمپل لینا ہے، مجھے خدشہ تھا کہ آگر لیٹ ہوگیا تو مُلزم کے وکلا ہائکورٹ سے سیمپل لینے والے لیٹر کا Operation نہ Suspend کروالیں۔

※ میں دفتر جانے کی بجائے سیدھا IG جیل خانہ جات کے پاس چلا گیا اور اُن کو سارہ ماجرا بتا دیا انھوں نے میرے سامنے جیل سپرینٹنڈنٹ کو احکامات دے دیئے کہ شیشن جج صاحب کے آرڈر پر آج ہی عمل درآمند کرنا ہے اور جب تک انسپیکٹر فرید کورٹ کا آرڈر نہ لائے جیل کے ڈاکٹر کو موجود Available رکھنا ہے،

※ شام کو پانچ بجے انسپیکٹر فرید کا فون آیا کہ “ صاحب میں نے ملزم کا سیل شُدہ خون کا سیمپل جیل کے ڈاکٹر سے وصول کر لیا ہے” میں نے احتیاطن پوچھا کہ ڈاکٹر نے مُلزم یاسر سے خون کا سیمپل آپ کے سامنے لیا ہے؟ انسپکٹر فرید نے جواب دیا کہ “سر ٹائل بدلے جانے کے بعد میں محتاط ہوگیا ہوں، میں نے سیمپل اپنے سامنے کروایا ہے”۔ میں نے اُس کو کہا کہ کل صبح پہلی فُرصت میں آپ نے میرے دفتر آنا ہے اور DNA کیلئے NFSA اسلام آباد والی لیب کو خط بنواکے ٹائل اور ملزم کے خون کا سیمپل TCS کرنا ہے،

※ دوسرے دن صبح ہی ٹائل اور خون کاسیمپل NFSA اسلام آباد TCS کردیا گیا میں نے احتیاطن NFSA لیب اسلام آباد کو خط لکھ دیا کہ جیساکہ ملزم لوگ بہت چالاک، مالدار اور پیسے والے ہیں پہلے بھی Chemical Examiner Karachi کے دفتر میں سیمپلز کی Tempering ہوئی ہے اور کیس کے شواہد کو گم کردیا گیا ہے یہ بات آپ کے علم میں رہے اور ملزمان ایسی کوشش دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔

※ کچھ دنوں بعد مجھے NFSA لیب آسلام آباد سے DNA رپورٹ موصول ہوگئی جس میں ٹائل پر گرا ہوا خون ملزم یاسر کے خون کا سمپل کا DNA میچ ہوگیا تھا۔ میں نے خوشی سے انسپیکٹر فرید کو فون پر مبارکباد دی اور اس کو کہا کہ پہلی فرصت میں DNA رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرادے۔

‏※ DNA رپورٹ آنے کے بعد یہ واضع ہوگیا تھا کہ Chemical Examiner کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور اُسی مُلزم کی مدد کرنے اور شواہد کی Tempering کرنے کے الزام میں گرفتار کرنا تھا مگر وہ ٹائل میرے دفتر سے غائب ہو چکا تھا، میرا ارادا تھا کہ Examiner کو حنا قتل کیس میں گرفتار کرکے 14 روزہ ریمانڈ میں صبح و شام چھترول کروائوں مگر مجھے افسوس ہے کہ میں Chemical examiner کو کچھ بھی نہ کرسکا۔

※ ملزم کے وکلا نے Chemical examiner کی رپورٹ کی بنیاد پر مُلزم کی ضمانت شیشن کورٹ میں لگائی ہوئی تھی جو DNA رپورٹ آنے کے بعد شیشن جج صاحب نے خارج کر دی۔ کیس مضبوط تھا میں نے انسپیکٹر فرید کو کہا کہ کیس کو جلدی چلواکر evidence رکارڈ کرا دے مگر آپ کو پتہ ہے کہ یہاں پر سب کچھ ممکن ہے۔

※مُلزم کے وکلا نے ہائکورٹ میں ضمانت کی درخواست لگا دی اور جان بوجھ کر ایسے جج صاحب کے پاس لگائی جن کی شُہرت کچھ اچھی نہیں تھی۔

※ اور کچھ دنوں کے بعد وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، جج صاحب نے مُلزم کی ضمانت لے لی اور مجھے کچھ دوست وکلا سے معلوم ہوا کہ ضمانت 80 لاکھ کی ڈیل پر ہوئی ہے۔

※ میں اپنی طبیعت پر کنٹرول نہ رکھ سکھا اور عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ سے ملنے چلا گیا اس وقت کا میں نے انتخاب اس لیئے کیا کہ وکلا اور سائل وغیرہ کورٹ سے چلے جاتے ہیں اور رش نہ ہونے کی برابر ہوتا ہے، میں نے کیس کی ساری حقیقت اُن کو بتادی اور گذارش کی مجھے چیف جسٹس صاحب سے ملنے کا ٹائم لیکر دیں۔ رجسٹرار صاحب ایک اچھے اور ایماندار انسان تھے اور انھوں نے کہا آپ انتظار کریں میں ابھی آپ کو CJ صاحب سے ملواتا ہوں، اور وہ کچھ فائلیں اور ڈائری لیکر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد چیف جسٹس صاحب کا اردلی مجھے بُلانے آگیا۔

※ میں اوپن کورٹ میں چیف جسٹس صاحب کے سامنے کیئی بار پیش ہو چُکا تھا اور وہ مجھ پر کافی اعتماد کرتے تھے۔ انھوں نے میری بات بڑی غور سے سُنی،میں نے ٹائل بدلنے،Examiner کی رپورٹ،ٹائل چوری ہونے،جیل سے مُلزم کا خون کا سیمپل لینے اور DNA رپورٹ چیف جسٹس صاحب کو دکھائی وہ کرسی پر باربار پہلو بدل کر بے چین ہورہئے تھے اور مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ ڈیل کے تحت ضمانت ہوئی ہے ؟ میں نے اُن کو کہا کہ سر آپ سینئر ترین جج ہیں آپ خود یا کسی اور جج صاحب سے ضمانت کی فائل کو چیک کروالیں آگر ضمانت میرٹ پر لی گئی ہے تو میں غلط ہوں آگر ضمانت لینے میں مُلزم کو Favour دیا گیا ہے تو کون مفت میں Favour دیتا ہے ؟ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ آگر ضمانت میں Favour دیا گیا ہے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ رجسٹرار صاحب بھی مُلاقات میں موجود تھے اور مجھے بُلاکر لے آنے والا آردلی چیمبر میں اندر موجود سب کچھ سُن رہا تھا۔ میں چیف جسٹس صاحب کو سیلوٹ کرکے چیمبر سے نکل آیا۔

※ پتہ نہیں ضمانت لینے والے جج صاحب کو کیسے پتہ چل گیا ایک دن IG صاحب (جو کچھ ماہ پہلے نئے لگے تھے) نے مجھے اپنے دفتر بُلا لیا جسے میں نے دفتر میں اندر جاکر سیلوٹ کیا وہ بجاء جواب دینے کے stick لیکر کھڑے ہوگئے اور سخت برہمی سے کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر چیف جسٹس صاحب سے کیوں ملنے گئے ؟ تم نے جج صاحب کی کیوں شکایت کی ؟ ڈسیپلین فورس ہے میں نے IG صاحب کو کوئی وضاحت نہیں دی اسلئے کہ وہ سخت غصے میں تھے، اُن کا کہنا تھا کہ تمھاری اس حرکت کی وجہ عدلیہ اور پولیس کے تعلقات خراب ہو جائیں گےاور تُم اُس جج صاحب کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تم نے جج صاحب کی شکایت کرکے خود کو خراب کیا ہے، میں تمھاری ACR خراب کردوں گا۔ وغیرہ وغیرہ !!!! اُن کی بات ختم ہونے پر بس اپنی غلطی مان کر Sir I’m at Fault I’m sorry کہا معذرت کرکے سیلوٹ کیا اور دفتر سے باہر نکل آیا۔

میں نے اپنے ضمیر کے مُطابق قاتل اور کرمنلز کا ساتھ دینے والے جج کی نشاندہی کر کے کچھ غلط نہیں کیا تھا، میرے نزدیک جج صاحب اور Chemical examiner کا جُرم ناقابل معافی ہے، جو لوگ ایک جج کو خریدنے کی قوت رکھتے تھے انھون نے غریب موٹر سائیکل پر گھومنے والے انسپیکٹر فرید پر کتنا زور نہیں لگایا ہوگا ؟؟ !!!
آگر کبھی موقعہ ملا تو آپ کو بتاؤں گا کہ بلدیہ کیس کس طرح ایک انسپیکٹر نے بیچ دیا اور IG تک کسی کی نہ سُنی !!!۔ شاہ رُخ جتوئی کیس میں کس طرح ایک انسپیکٹر اپنی من مانی کرنے لگا اور IG کو مجبور،لاچار اور بے بس کردیا ؟؟!! اور کس طرح بے گناہ لوگوں کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا گیا ؟؟ !!!!!!
یہ سارا کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آگر انسپیکٹر فرید خوف خدا نہ رکھتا اور کیس کا سودا کر لیتا تو میں اُس کو کیا کر لیتا ؟؟ !!!

※کچھ دنوں میں میرا تبادلہ Anti Car lifting cell میں Ssp بلتستان) کی جگہ کردیا گیا۔

※ ان ہی دنوں اخبارات میں پڑھا کہ ضمانت لینے والے جج صاحب کو کنفرم نہیں کیا گیا اور ہائکورٹ سے فارغ کردیا گیا ہے، میں اپنے حصے کا کام کر چُکا تھا !!!!

※اُسی دن IG صاحب نے مجھے بُلوالیا، جیسے ہی میں نے ان کو سیلوٹ کیا انھون نے اُٹھ کر گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے ہاتھ ملایا اور آردلی کو اپنے لیئے اور میرے لیئے کافی بنانے کو کہا۔ کرسی پر بیٹھتے ہی کہا کہ نیاز آپ نے آج کا اخبار دیکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ سر جس خبر کے مُتعلق آپ کہ رہے ہیں وہ میں دیکھ چُکا ہوں۰
‏IG صاحب نے سوال کیا کہ آخر آپ کے اور جج صاحب کے درمیاں کیا پرابلم تھی ؟ میں نے IG صاحب کو کہا کہ سر کوئی ذاتی یا میری انا Ego کا مسئلہ نہیں تھا” میں نے اُن کو حنا کیس کے متعلق سارا کچھ بتایا (IG صاحب نئے پوسٹ ہوئے تھے اور کبھی نہ انھوں نے پوچھا اور نہ میں نے بتایا) میری پوری بات سننے کے بعد وہ شرمندگی کی وجہ سے مجھ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے، ( میری عادت ہے کہ ہاتھ ملاتے وقت اور گفتگو کے دوران مخاطب کی آنکھوں میں دیکھتا رہتا ہوں) کافی ختم ہوتے ہی میں جانے کیلئے اُٹھ کڑا ہوا IG صاحب نے ایک ہاتھ سے مجھے رُکنے کا اشارا کیا اور دوسرے ہاتھ سے انٹر کام پر DIG T&T کو کہا کہ کھوسہ صاحب آپ کے پاس آرہے ہیں ان کو فیملی کیلئے نئے فلیٹ fleet میں سے ایک بلیک کلر کی کرولا کار دے دیں، انھوں نے اُٹھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا آپ DIG سے کار لیتے جائیں۔ میں نے خاموشی سے اُن کو سیلوٹ کیا اور باہر نکل آیا۔میں نے محسوس کیا کہ IG صاحب اپنے سابقہ رویہ پر ندامت محسوس کر رہے ہیں۔

※ میں DIG T&T کے پاس نہیں گیا اور اپنے دفتر چلا گیا۔ شام کو DIG T&T کا فون آیا کہ نیاز آپ کار لینے نہیں آئے میں نے آپ کے دفتر کار بھجوادی ہے ۔

※میری خودداری, عزت نفص اور ضمیر IG صاحب کی تلافی کے طور دی ہوئی کار رکھنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی ویسے تو سینئر کو اپنے ماتحت کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کا حق ہے مگر اُس دن IG صاحب کا sticks لے کر کھڑا ہوجانا مجھے حد درجہ بُرا لگا تھا اور میں اپنی بیعزتی سمجھ رہا تھا۔

※ دوسرے دن میں نے شُکریہ کے ایک خط کے ساتھ کار DIG T&T کو واپس بھیج دی اور لکھا کہ میری فیملی کے پاس پرائیویٹ کار ہے اس لیئے میں یہ کار نہیں رکھ سکتا۔
کار واپس کرکے IG صاحب کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ آپ ایک Stick سے سب کو چلا نہیں سکتے !! اور سب کو ایک طرح کا نہ سمجھیں !!!

※ ملزم ضمانت لیتے ہی آمریکا فرار ہوگیا لڑکی کے والدیں نے سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائرکر دی کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے، انسپیکٹر فرید کا بھی تبادلہ کردیا گیا تھا۔ پاکستان کا امریکا سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس سے مُلزم کو واپس لایا جا سکے، انٹر پول کو ریڈ وارنٹ ارسال کرکے ملزم کی گرفتاری ممکن کی جا سکتی ہے مگر اس کیلئے جن آفسران کی وہاں تعناتی ہے وہی سب کچھ کر سکتے ہیں اس طرح بیچاری حنا کا کیس اپنی موت آپ مر گیا۔ اور ایسے لاکھوں کیسز کے فائلوں میں اس کیس کی فائل بھی پتہ نہیں کہاں گم ہوگئی ہے ؟؟!!!

آگر آج بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں، سندھ ہائکورٹ یا سپریم کورٹ تھوڑی کوشش کریں تو ریڈ وارنٹ نکل سکتا ہے۔ اور ملزم یاسر کو پاکستان لایا جاسکتا ہے۔

یہاں راقم سارے لکھتے ہیں

انصاف و قوانین یہاں پر بکتے ہیں

یہاں پر ہے جعلی دوائوں کا کاروبار بہت

اس دیس میں گُردے بکتے ہیں

User Rating: 5 ( 2 votes)

Shahzad Zaman

Shahzad Zaman is an entrepreneur.

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

Adblocker Detected

Adblocker Detected, Please disable adblocker in your browser!